یوں وہ پردے میں پھرتے چلتے ہیں
جیسے بدلی میں آفتاب چلے
Related posts
-
راحت اندوری
بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر جو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ... -
-
یوں وہ پردے میں پھرتے چلتے ہیں
جیسے بدلی میں آفتاب چلے